Skip to main content

لسی Lassi

 


لسی
لسی انگریزی: Lassi
دہی سے بنایا جانے والا ایک روایتی پنجابی مشروب ہے۔ عام طور پر دہی میں پانی ملا کر مدھانی سے بلویا جاتا ہے اور اس میں سے مکھن علاحدہ کر لیا جاتا ہے۔ پھر اس میں حسب منشا نمک اور مزید پانی ملایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اس میں چینی بھی ملاتے ہیں۔ لسی پاکستان اور بھارت میں بالخصوص پنجاب کے دیہاتی علاقوں میں بہت مقبول ہے۔ سخت گرمی میں یہ ٹھنڈک، اطمینان اور نیند کا باعث ہے۔ زیادہ مقبول عام لسّی میں دہی، پانی اور نمک ہی شامل کیا جاتا ہے۔ لیکن میٹھی لسّی اور ادھ رڑکا بھی پیا جاتا ہے۔ میٹھی لسّی میں دہی کے ساتھ دودھ اور چینی شامل کی جاتی ہے اور یہ عام لسی سے زیادہ گاڑھی ہوتی ہے۔ یہ عام طور پر ناشتے میں لی جاتی ہے حالانکہ اس میں نیند آور خصوصیات زیادہ ہوتی ہیں۔ پاکستان میں لاہور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد اور بھارت میں امرتسر اور جودھپور اپنی لسی کی وجہ سے مقبول ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں لسّی گرمی کے احساس کو کم کرنے کے لیے عام مشروب کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔ ناشتے اور کھانے خصوصاً دوپہر کے کھانے کے ساتھ زیادہ پی جاتی ہے۔ دیسی علاج اور ٹوٹکوں میں بھی لسی کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔

روایتی نمکین لسی
روایتی نمکین لسی میں دہی کو ہاتھ کی مدھانی یا برقی مدھانی (بلینڈر) سے بِلو کر، پانی اور نمک ملایا جاتا ہے۔ بِلونے کے دوران لسی میں سے مکھن نکال لیا جاتا ہے اور لسی کو یخ ٹھنڈا کر کے پیش کیا جاتا ہے۔



میٹھی لسی
میٹھی لسی میں نمک کی بجائے چینی شامل کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پانی کی جگہ یا اس کے ساتھ دودھ بھی ملایا جاتا ہے۔ ذائقہ بڑھانے کے لیے اس میں عرق گلاب، لیموں کا رس یا مختلف پھلوں کا رس شامل کیا جا سکتا ہے (مثلاً مینگو لسی)۔ پاکستان میں سندھ اور بھارت میں راجستھان کے علاقوں میں زعفرانی لسی بھی پی جاتی ہے۔ میٹھی لسی میں مکھن یا بالائی موجود رہتی ہے جس کے باعث یہ گاڑھی ہوتی ہے۔ یہ نیند آور ہوتی ہے اور اس کو پینے کے بعد اونگھنے کی سی کیفیت ہو سکتی ہے۔


بھنگ لسی
بھنگ لسی بھارت میں تہواروں وغیرہ کے موقع پر پی جاتی ہے۔ اس میں بھنگ کے پودے سے کشید کیا گیا محلول شامل کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر ساجد شیخ
03146700489

Comments

Popular posts from this blog

Paralysis Treatment

 

بچوں کے لیے الیکٹرانک آلات کا استعمال صحت کے خطرات

بچوں کے لیے الیکٹرانک آلات کا استعمال صحت کے خطرات ہم بچوں کی ایک نئی نسل کی پرورش کر رہے ہیں جو آلہ سے چلنے والی طرز زندگی کی طرف بے حد مائل ہیں۔ جب کہ کمپیوٹر اور ہاتھ سے پکڑے جانے والے آلات عیش و عشرت سے زیادہ ضرورت بن رہے ہیں، ہمارے بچوں کو ان سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ 7-18 سال کی عمر کے بچوں کے لیے روزانہ دو گھنٹے وہ تجویز ہے جس پر آپ کو قائم رہنا چاہیے۔ ایک جنگ ایک لڑائی ہمارے درمیان ایسے والدین بھی ہو سکتے ہیں جو اس جنگ سے تھکے ہوئے ہوں، جنہوں نے اپنے بچوں کو ان کے ہینڈ فونز، ٹیبلیٹ کمپیوٹرز اور دیگر چیزوں سے دور کرنے کے لیے جدوجہد کی ہو۔ یہ ہمیشہ ہار ماننے کے لیے پرکشش ہوتا ہے، یہ یقین رکھتے ہوئے کہ ہمارے بچوں کو جلد از جلد ٹیک سیوی بننا سیکھنا پڑے گا۔ آرام سے رہیں - دن میں دو گھنٹے تک کافی محفوظ ہے، لیکن صحت کے درج ذیل مسائل سے ہوشیار رہیں جو نشے کے خطرات کے علاوہ اسکرین کے بہت زیادہ وقت اور ٹیکنالوجی کی خراب عادات سے پیدا ہو سکتے ہیں خراب جسمانی ساخت ، کمر میں درد، گردن اور کندھے کا تناؤ یہ ایک فوری طور پر پہچانا جانے والا ایک آلہ ہے۔  جب ڈیوائس کا استعمال زیادہ ہو تو ...

الکحل اور ڈپریشن

Alcohol and depression الکحل دماغ پہ کس طرح اثر انداز ہوتی ہے؟ ٹولرنس (Tolerance ) الکحل کا دماغ پہ اثر کئی اور نشہ آور اشیا مثلاً سکون آور ادویات  کی طرح  ہی ہوتا ہے۔ اگر باقاعدگی سے الکحل پی جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ اس کا اثر کم ہوتا جاتا ہے اور مطلوبہ اثر حاصل کرنے کے لیے اس کی مقدار بڑھانی پڑتی ہے۔ یہ عمل  'ٹولرنس' کہلاتا ہے اور الکحل  کا عادی بننے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ الکحل درج ذیل مسائل کا سبب بھی بن سکتی ہے ڈیمینشیا    ڈمینشیا الزائمر سے ملتی جلتی یادداشت کی کمزوری سائیکوسس   زیادہ مدت تک الکحل پینے والوں کو اکیلے میں آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں   عادی ہو جانا اگر الکحل پینا اچانک بند کر دیا جائے تو  نشہ اچانک چھوڑنے کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں مثلاً کانپنا، اعصابی دباؤ اور کبھی کبھار ایسی چیزیں دیکھنا جو حقیقت میں وہاں موجود نہ ہوں۔ خودکشی   خودکشی کی کوشش کرنے والے مردوں کی چالیس فی صد تعداد ان افراد پر مشتمل ہوتی ہے جو طویل عرصے سے الکحل کے عادی ہوں۔ خودکشی میں کامیاب ہونے والے ستر فی صد افراد وہ ہوتے ہیں جنھوں نے ا...