Skip to main content

Influenza

 Influenza


انفلوئنزا

یہ ایک مشہور مرض ہے جس کے متعلق اہل طب کی مختلف رائے ہیں. بعض اس کا سبب ایک خاص جراثیم انفلوئنزا بیسی لس اور بعض اس کو ستاروں سے تشبیہ دیتے ہیں.

ایک بار مرض ہونے پر دوبارہ قوت مدافعت نہیں رہتی اور مرض بار بار حملہ کرتا ہے. یہ وبائی مرض ہے ایک سے دوسرے کو لگ جاتا ہے.

اقسام

1. اعصابی

سر درد، زکام، بخار، عام عصبی اور عضلاتی کمزوری، منہ کا ذائقہ بدمزا تمام جسم میں ہلکا ہلکا درد معمولی کھانسی و نزلہ عموماً مریض 4 سے 5 یوم میں صحت مند ہو جاتا ہے.

2. تنفسی

نمونیہ اور برانکائٹس کھانسی کے ساتھ چھاتی میں سخت درد گلے اور سانس کی نالی میں ورم تیز بخار اور پیاس کی شدت گلا بیٹھ جاتا ہے اس طرح کی علامات میں آرام دیر سے آتا ہے بعض اوقات قے، دست اور ابکائیاں آتی ہیں. بخار 104، 105. غنودگی اور بے-بس ہوشی طاری ہو جاتی ہے ٹائیفائڈ ہو سکتا ہے اور عام طور پر یہ خطرناک صورت اختیار کر جاتا ہے.

اس مرض کی زیادہ خرابی ہے کہ یہ بخار اتر جانے کے بعد بھی کھانسی کئ دنوں تک ستاتی ہے اور کمزوری اور نقاہت بھی کئ دنوں تک رہتی ہے

احتیاط

آرام، گرمی، خوراک تینوں کا خیال لازمی رکھنا چاہیے ورنہ مرض خطرناک صورت اختیار کر لیتا ہے

ہومیوپیتھی میں اس مرض کے لیے بہت ہی عمدہ بے شمار ادویات استعمال کروائی جاتی ہیں جو علامات کی بنیاد پر دی جاتی ہیں چند ایک درج ذیل ہیں

1. ایکونائٹ.

2. جلسی میم.

3. رسٹاکس.

4. بپٹیشیا.

5. آرسنیکم البم.

6. یوپیٹوریم پرفولیٹم.

7. سباڈیلا.

8. ڈلکامارا.

9. برائی اونیا.

10. فاسفورس.

اس کے علاوہ اور بھی ادویات ہیں جو علامات کے مطابق دی جا سکتی ہیں.

نوٹ : کوئی بھی دوا ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے مشورہ کے بغیر بالکل بھی استعمال نہیں کرنی

Sajid Sheikh

Homeo/Fitness Consultant 

Comments

Popular posts from this blog

Paralysis Treatment

 

بچوں کے لیے الیکٹرانک آلات کا استعمال صحت کے خطرات

بچوں کے لیے الیکٹرانک آلات کا استعمال صحت کے خطرات ہم بچوں کی ایک نئی نسل کی پرورش کر رہے ہیں جو آلہ سے چلنے والی طرز زندگی کی طرف بے حد مائل ہیں۔ جب کہ کمپیوٹر اور ہاتھ سے پکڑے جانے والے آلات عیش و عشرت سے زیادہ ضرورت بن رہے ہیں، ہمارے بچوں کو ان سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ 7-18 سال کی عمر کے بچوں کے لیے روزانہ دو گھنٹے وہ تجویز ہے جس پر آپ کو قائم رہنا چاہیے۔ ایک جنگ ایک لڑائی ہمارے درمیان ایسے والدین بھی ہو سکتے ہیں جو اس جنگ سے تھکے ہوئے ہوں، جنہوں نے اپنے بچوں کو ان کے ہینڈ فونز، ٹیبلیٹ کمپیوٹرز اور دیگر چیزوں سے دور کرنے کے لیے جدوجہد کی ہو۔ یہ ہمیشہ ہار ماننے کے لیے پرکشش ہوتا ہے، یہ یقین رکھتے ہوئے کہ ہمارے بچوں کو جلد از جلد ٹیک سیوی بننا سیکھنا پڑے گا۔ آرام سے رہیں - دن میں دو گھنٹے تک کافی محفوظ ہے، لیکن صحت کے درج ذیل مسائل سے ہوشیار رہیں جو نشے کے خطرات کے علاوہ اسکرین کے بہت زیادہ وقت اور ٹیکنالوجی کی خراب عادات سے پیدا ہو سکتے ہیں خراب جسمانی ساخت ، کمر میں درد، گردن اور کندھے کا تناؤ یہ ایک فوری طور پر پہچانا جانے والا ایک آلہ ہے۔  جب ڈیوائس کا استعمال زیادہ ہو تو ...

الکحل اور ڈپریشن

Alcohol and depression الکحل دماغ پہ کس طرح اثر انداز ہوتی ہے؟ ٹولرنس (Tolerance ) الکحل کا دماغ پہ اثر کئی اور نشہ آور اشیا مثلاً سکون آور ادویات  کی طرح  ہی ہوتا ہے۔ اگر باقاعدگی سے الکحل پی جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ اس کا اثر کم ہوتا جاتا ہے اور مطلوبہ اثر حاصل کرنے کے لیے اس کی مقدار بڑھانی پڑتی ہے۔ یہ عمل  'ٹولرنس' کہلاتا ہے اور الکحل  کا عادی بننے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ الکحل درج ذیل مسائل کا سبب بھی بن سکتی ہے ڈیمینشیا    ڈمینشیا الزائمر سے ملتی جلتی یادداشت کی کمزوری سائیکوسس   زیادہ مدت تک الکحل پینے والوں کو اکیلے میں آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں   عادی ہو جانا اگر الکحل پینا اچانک بند کر دیا جائے تو  نشہ اچانک چھوڑنے کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں مثلاً کانپنا، اعصابی دباؤ اور کبھی کبھار ایسی چیزیں دیکھنا جو حقیقت میں وہاں موجود نہ ہوں۔ خودکشی   خودکشی کی کوشش کرنے والے مردوں کی چالیس فی صد تعداد ان افراد پر مشتمل ہوتی ہے جو طویل عرصے سے الکحل کے عادی ہوں۔ خودکشی میں کامیاب ہونے والے ستر فی صد افراد وہ ہوتے ہیں جنھوں نے ا...