Skip to main content

نشہ کیا ہے؟ خمار کیوں ہوتا ہے؟

 

نشہ کیا ہے؟ خمار کیوں ہوتا ہے؟

نشہ، خمار، سرور، بادہ و جام اور اس سے جڑے استعاروں ، تماثیل اور تشبیہات سے اردو شاعری بھری پڑی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ نشہ اصل میں ہے کیا اور کیوں ہوتا ہے؟

صحت

الکوحل اور دیگر منشیات کا استعمال کرنے پر کوئی شخص جیسے اپنا وزن کھو سا دیتا ہے اور اسے لگتا ہے جیسے ہوائیں اسے اڑائے پھر رہی ہیں۔ وہ پاؤں کہیں رکھتا ہے اور پاؤں پڑتا کہیں اور ہے۔ الکوحل اور دیگر منشیات کی زیادہ مقدار استعمال کر لی جائے، تو ممکن ہے آپ ایک طرح سے بے ہوش ہو جائیں یا قے کرنے لگیں۔ نشے یا خمار کی سطح مختلف ہو سکتی ہے،  مگر اس سارے عمل کے درپردہ وجوہ کیا ہوتی ہیں؟ 

الکوحل یا منشیات اصل میں انسانی موڈ، سوچنے کے عمل اور دیگر افعال کو متاثر کرتی ہیں اور سائنسی وجہ یہ ہے کہ ان کا استعمال انسان کے مرکزی اعصابی نظام کو نشانہ بناتا ہے۔ یہی وہ دھاگے ہیں، جن کے ذریعے آپ کے دماغ اور جسم کے درمیان تال میل قائم رہتا ہے۔ یہ دھاگا کچھ ڈھیلا پڑ جائے، تو سارا جسم ہاتھ سے نکلتا محسوس ہوتا ہے۔

سائنسی محققین کے مطابق پہلے گھونٹ کے فقط تیس سیکنڈ کے اندر اندر الکوحل آپ کے دماغ تک پہنچ چکی ہوتی ہے۔ اس کا پہلا ہدف دماغ میں اس کیمیائی مادے کو سست بنانا ہوتا ہے، جو دماغی خلیات کے درمیان سگنلز کی آمدورفت سے جڑا ہوتا ہے۔ اسی لیے الکوحل کے استعمال سے آپ کی حرکات و سکنات سست ہو جاتی ہیں اور آپ عام حالات جیسا سوچ نہیں سکتے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ اس لمحے کی یہ مشکل بعد میں آپ کو یاد بھی نہیں ہوتی۔

الکوحل کا مسلسل اور طویل مدت تک استعمال جاری رکھا جائے، تو دماغی خلیات اپنی شکل تبدیل کرنے لگتے ہیں، حتیٰ کہ ان کا حجم تک کم ہو جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں یوں سمجھیے کہ طویل مدت تک شراب کا استعمال آپ کے دماغ کو چھوٹا کر دیتا ہے۔

افعال کا انحصار مقدار پر

الکوحل کی مقدار یہ طے کرتی ہے کہ یہ نظام کتنا متاثر ہوا۔ یعنی مقدار کم ہو تو سکون ، آرام اور سستی کا ڈیرہ ہوتا ہے اور مقدار زیادہ استعمال کر لی جائے، تو زبان لڑکھڑانے لگتی ہے، چلنے میں دشواری ہوتی ہے اور قے تک بھی ہو سکتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ مقدار میں استعمال کر لی جائے، تو سانس اکھڑ سکتی ہے، کوئی انسان کوما میں جا سکتا ہے اور موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

سائنسی اعتبار سے الکوحل سے جڑے نشے کی کیفیت دو یا تین ڈرنکس کے بعد شروع ہوتی ہے۔

قانونی اعتبار سے  بلڈ الکوحل کنسنٹریشن خون میں الکوحل کے ارتکاز سے جانچی جاتی ہے۔ خون میں اگر یہ سطح پانچ اعشاریہ چار سے سترہ اعشاریہ چار ایم ایم او ایل فی لٹر ہوتو ایسے شخص کو 'نشے میں‘ قرار دیا جاتا ہے۔

عام انسانی جگر ایک گھنٹے میں ایک ڈرنک سے نمٹ سکتا ہے، مگر اس کا انحصار بھی عمر، جسمانی حالت اور دیگر عناصر  پر ہے۔ مختصر دورانیے کے لیے الکوحل کے اثرات میں توجہ میں کمی، ربط میں خرابی، فیصلے کی قوت میں کمی اور بصارت کی حس میں کمی اور قے وغیرہ شامل ہیں۔ مگر الکوحل کے استعمال کا طویل المدتی نقصان یہ ہے کہ یہ یادداشت کی خرابی، سیکھنے کی حس میں کمی، جگر کی بیماریوں، گلے، منہ، جگر وغیرہ کے سرطان، بلند فشار خون، امراضِ قلب اور اسٹروک  سمیت دھڑکن کی رفتار میں اتار چڑھاؤ جیسے امور سے جڑی ہے۔

جسم پر الکوحل کے اثرات

الکوحل کا مسلسل اور بے پناہ  استعمال سب سے زیادہ جگر کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ مسلسل اور زیادہ مقدار میں الکوحل کے استعمال سے جگر میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے اور اس پر مستقل نشانات بن جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں الکوحلک ہیپاٹائٹس، فیبروسس، اور سیروسس جیسی خطرناک بیماریاں بھی ہو سکتی ہے۔

نظام انہضام کے لیے بھی الکوحل انتہائی خطرناک ہے کیوں کہ اس کے استعمال سے معدے میں تیزاب کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے، جو السر کا سبب بن سکتا ہے۔ الکوحل کا استعمال جسم کی غذائیت جذب کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ الکوحل لبلبے کو بھی خطرناک مادہ پیدا کرنے پر مجبور کر دیتا ہے  جو لبلبے میں سوزش کا سبب بن سکتا ہے۔ الکوحل جسم میں شوگر کی سطح کو قابو میں رکھنے کے نظام کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

جسم میں وٹامن بی ون کی کمی الکوحل کے استعمال سے نتھی ہے۔ اسی وجہ سے سونے کے اوقات میں تبدیلی، کنفیوژن، سیکھنے کی صلاحیت میں کمی اور یادداشت کی کم زوری کی راہ کھلتی ہے۔ سائنسی تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ الحکول کا زیادہ استعمال دماغ میں نئے خلیات کی پیدائش کی رفتار کو بھی کم کر سکتا ہے۔

نوجوان الکوحل کی جانب کیوں مائل ہوتے ہیں؟

نوجوان شراب یا دیگر نشوں کی جانب اس لیے آسانی سے مائل ہو جاتے ہیں، کیوں کہ ان کے لیے شراب کا استعمال مختلف طرز کے دباؤ سے فرار کا راستہ ہوتا ہے۔ غصہ، بے بسی اور دھچکا وغیرہ بھی کسی نوجوان کو نشے کی لت میں مبتلا کرنے کے امکانات کے حامل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح جشن، مل بیٹھے کو، موج مستی کرنے وغیرہ جیسے مواقع بھی خود کو نشے کے حوالے کر دینے سے جڑے ہوتے ہیں۔ تاہم ان سے جڑے خطرات اور خصوصاﹰ نفسیاتی مسائل نہایت گھمبیر ہیں۔

پھر چوں کہ دیگر منشیات کی طرح الکوحل میں بھی عادت بن جانے کی زبردست صلاحیت ہوتی ہے، اس لیے نوجوانوں میں یہ تجرباتی شوق انہیں اس لت میں مبتلا کر سکتا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

Paralysis Treatment

 

بچوں کے لیے الیکٹرانک آلات کا استعمال صحت کے خطرات

بچوں کے لیے الیکٹرانک آلات کا استعمال صحت کے خطرات ہم بچوں کی ایک نئی نسل کی پرورش کر رہے ہیں جو آلہ سے چلنے والی طرز زندگی کی طرف بے حد مائل ہیں۔ جب کہ کمپیوٹر اور ہاتھ سے پکڑے جانے والے آلات عیش و عشرت سے زیادہ ضرورت بن رہے ہیں، ہمارے بچوں کو ان سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ 7-18 سال کی عمر کے بچوں کے لیے روزانہ دو گھنٹے وہ تجویز ہے جس پر آپ کو قائم رہنا چاہیے۔ ایک جنگ ایک لڑائی ہمارے درمیان ایسے والدین بھی ہو سکتے ہیں جو اس جنگ سے تھکے ہوئے ہوں، جنہوں نے اپنے بچوں کو ان کے ہینڈ فونز، ٹیبلیٹ کمپیوٹرز اور دیگر چیزوں سے دور کرنے کے لیے جدوجہد کی ہو۔ یہ ہمیشہ ہار ماننے کے لیے پرکشش ہوتا ہے، یہ یقین رکھتے ہوئے کہ ہمارے بچوں کو جلد از جلد ٹیک سیوی بننا سیکھنا پڑے گا۔ آرام سے رہیں - دن میں دو گھنٹے تک کافی محفوظ ہے، لیکن صحت کے درج ذیل مسائل سے ہوشیار رہیں جو نشے کے خطرات کے علاوہ اسکرین کے بہت زیادہ وقت اور ٹیکنالوجی کی خراب عادات سے پیدا ہو سکتے ہیں خراب جسمانی ساخت ، کمر میں درد، گردن اور کندھے کا تناؤ یہ ایک فوری طور پر پہچانا جانے والا ایک آلہ ہے۔  جب ڈیوائس کا استعمال زیادہ ہو تو ...

الکحل اور ڈپریشن

Alcohol and depression الکحل دماغ پہ کس طرح اثر انداز ہوتی ہے؟ ٹولرنس (Tolerance ) الکحل کا دماغ پہ اثر کئی اور نشہ آور اشیا مثلاً سکون آور ادویات  کی طرح  ہی ہوتا ہے۔ اگر باقاعدگی سے الکحل پی جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ اس کا اثر کم ہوتا جاتا ہے اور مطلوبہ اثر حاصل کرنے کے لیے اس کی مقدار بڑھانی پڑتی ہے۔ یہ عمل  'ٹولرنس' کہلاتا ہے اور الکحل  کا عادی بننے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ الکحل درج ذیل مسائل کا سبب بھی بن سکتی ہے ڈیمینشیا    ڈمینشیا الزائمر سے ملتی جلتی یادداشت کی کمزوری سائیکوسس   زیادہ مدت تک الکحل پینے والوں کو اکیلے میں آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں   عادی ہو جانا اگر الکحل پینا اچانک بند کر دیا جائے تو  نشہ اچانک چھوڑنے کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں مثلاً کانپنا، اعصابی دباؤ اور کبھی کبھار ایسی چیزیں دیکھنا جو حقیقت میں وہاں موجود نہ ہوں۔ خودکشی   خودکشی کی کوشش کرنے والے مردوں کی چالیس فی صد تعداد ان افراد پر مشتمل ہوتی ہے جو طویل عرصے سے الکحل کے عادی ہوں۔ خودکشی میں کامیاب ہونے والے ستر فی صد افراد وہ ہوتے ہیں جنھوں نے ا...