Skip to main content

ناخنوں پر سفید دھبے کیا کیلشیم کی کمی سے ہوتے ہیں؟


ناخنوں پر سفید دھبے کیا کیلشیم کی کمی سے ہوتے ہیں؟

ہم میں سے بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ناخنوں پر پڑنے والے سفید دھبے کیلشیم کی کمی کو ظاہر کرتے ہیں. حالانکہ ایسا بالکل نہیں کیونکہ کیلشیم کا ناخنوں سے کوئی تعلق  keratinنہیں. کیلشیم ہڈیوں کے لیے ضروری ہوتا ہے. ناخن  کیراٹن سے بنتے ہیں

کیراٹن ایک لحمیہ(پروٹین) ہے. جو کہ جلد کی سب سے اوپری تہہ کی شکل میں ہوتا ہے. یہ جلد مردہ ہوتی ہے. بعض اوقات ناخن نچلی جلد سے علیحدہ ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے سفید دھبے نمودار ہو جاتے ہیں

ناخنوں پر پڑنے والے سفید دھبوں کی کئی وجوہات ہو سکتی ہے یہ کبھی صرف ایک ناخن پر پڑتے ہیں اور کبھی سارے ناخنوں پر بھی پڑ سکتے ہیں. ان میں کوئی تکلیف نہیں ہوا کرتی. اور ان کا علاج کروانے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی. ناخن بڑھنے پر کاٹتے رہیں تو دھبے آہستہ آہستہ ختم ہو جاتے ہیں. لہٰذا ان کے بارے میں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں

Comments

Popular posts from this blog

Paralysis Treatment

 

بچوں کے لیے الیکٹرانک آلات کا استعمال صحت کے خطرات

بچوں کے لیے الیکٹرانک آلات کا استعمال صحت کے خطرات ہم بچوں کی ایک نئی نسل کی پرورش کر رہے ہیں جو آلہ سے چلنے والی طرز زندگی کی طرف بے حد مائل ہیں۔ جب کہ کمپیوٹر اور ہاتھ سے پکڑے جانے والے آلات عیش و عشرت سے زیادہ ضرورت بن رہے ہیں، ہمارے بچوں کو ان سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ 7-18 سال کی عمر کے بچوں کے لیے روزانہ دو گھنٹے وہ تجویز ہے جس پر آپ کو قائم رہنا چاہیے۔ ایک جنگ ایک لڑائی ہمارے درمیان ایسے والدین بھی ہو سکتے ہیں جو اس جنگ سے تھکے ہوئے ہوں، جنہوں نے اپنے بچوں کو ان کے ہینڈ فونز، ٹیبلیٹ کمپیوٹرز اور دیگر چیزوں سے دور کرنے کے لیے جدوجہد کی ہو۔ یہ ہمیشہ ہار ماننے کے لیے پرکشش ہوتا ہے، یہ یقین رکھتے ہوئے کہ ہمارے بچوں کو جلد از جلد ٹیک سیوی بننا سیکھنا پڑے گا۔ آرام سے رہیں - دن میں دو گھنٹے تک کافی محفوظ ہے، لیکن صحت کے درج ذیل مسائل سے ہوشیار رہیں جو نشے کے خطرات کے علاوہ اسکرین کے بہت زیادہ وقت اور ٹیکنالوجی کی خراب عادات سے پیدا ہو سکتے ہیں خراب جسمانی ساخت ، کمر میں درد، گردن اور کندھے کا تناؤ یہ ایک فوری طور پر پہچانا جانے والا ایک آلہ ہے۔  جب ڈیوائس کا استعمال زیادہ ہو تو ...

الکحل اور ڈپریشن

Alcohol and depression الکحل دماغ پہ کس طرح اثر انداز ہوتی ہے؟ ٹولرنس (Tolerance ) الکحل کا دماغ پہ اثر کئی اور نشہ آور اشیا مثلاً سکون آور ادویات  کی طرح  ہی ہوتا ہے۔ اگر باقاعدگی سے الکحل پی جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ اس کا اثر کم ہوتا جاتا ہے اور مطلوبہ اثر حاصل کرنے کے لیے اس کی مقدار بڑھانی پڑتی ہے۔ یہ عمل  'ٹولرنس' کہلاتا ہے اور الکحل  کا عادی بننے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ الکحل درج ذیل مسائل کا سبب بھی بن سکتی ہے ڈیمینشیا    ڈمینشیا الزائمر سے ملتی جلتی یادداشت کی کمزوری سائیکوسس   زیادہ مدت تک الکحل پینے والوں کو اکیلے میں آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں   عادی ہو جانا اگر الکحل پینا اچانک بند کر دیا جائے تو  نشہ اچانک چھوڑنے کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں مثلاً کانپنا، اعصابی دباؤ اور کبھی کبھار ایسی چیزیں دیکھنا جو حقیقت میں وہاں موجود نہ ہوں۔ خودکشی   خودکشی کی کوشش کرنے والے مردوں کی چالیس فی صد تعداد ان افراد پر مشتمل ہوتی ہے جو طویل عرصے سے الکحل کے عادی ہوں۔ خودکشی میں کامیاب ہونے والے ستر فی صد افراد وہ ہوتے ہیں جنھوں نے ا...