Skip to main content

Few Effective Exercises for improving Respiration



ورزشیں جو ہماری تنفس کے لیے بہترین ثابت ہو سکتی ہیں

سانس کا صحیح طور سے چلنا ہماری صحت اور زندگی کے لیے ناگزیر ہے. اس عمل کو سر انجام دینے کا کام پھیپھڑوں, کے ذمہ ہے. پھیپھڑے خون میں آکسیجن شامل کرتے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو باہر نکالتے ہیں. اس کے ساتھ کچھ اور فاسد مادوں کو بھی خون سے نکال کر خون کو صاف کرتے ہیں. بہرحال کچھ حالتوں میں نارمل سانس لینا دشوار ہو سکتا ہے. اور یہ ہمارے بلڈ پریشر پر اثر انداز ہو سکتا ہے. اور ساتھ ہی دل کی دھڑکن، قوت مدافعت اور یہاں تک کہ ذہن کی کارکردگی کو بھی متاثر کر سکتا ہے

سانس کے مسائل اگر مسلسل رہیں تو ہم مختلف پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتے ہیں. عمر، بیماری اور ورزش سانس پر اثر ڈال سکتے ہیں. کچھ عوامل پھیپھڑوں سے جوڑے ہوتے ہیں. اور پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں. لہٰذا نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنی صحت اور پھیپھڑوں کی صحت کا خیال رکھیں. تاکہ خوشگوار زندگی گزار سکیں

درج ذیل ورزشوں میں سے کوئی بھی ایک ورزش اپنی زندگی میں شامل کر لیں یہ آپ کی صحت کو اچھی رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گی


تیراکی 

Swimming 

تیراکی ہماری سانس لینے کی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے. اور پھیپھڑوں کی کارکردگی کو بہتر کرتی ہے. اس کی مشقوں کے دوران سانس روکنے اور لینے کے عمل سے پھیپھڑے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں. جو پھیپھڑوں کی صحت بحال رکھنے میں کارگر ثابت ہوتی ہے. جس سے بریتھ انڈیورنس Breath Endurance میں اضافہ ہوتا ہے ٹورسو سٹرنگتھ Torso Strength

 میں اضافہ ہوتا ہے 

 ان لوگوں کے لیے بھی اچھی ثابت ہوتی جو سی او پی ڈی COPDبیماری سے دوچار  ہوتے ہیں

تیراکی سے سانس لینے والے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں. اور جسمانی ساخت بھی بہتر ہوتی ہے. جب جسمانی ساخت مضبوط ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے پورے جسم میں نا صرف دورانِ خون بہتر ہوتا ہے بلکہ آکسیجن بھی پورے جسم میں پوری طرح پہنچ پاتی ہے. 


یوگا

Yoga

ہوگا میں بھی گہری سانس لینے والی ورزشیں کروائی جاتی ہیں. جو کہ نظامِ تنفس کی بہتری کے لئے بہت ہی اچھی ثابت ہوتی ہیں. روزانہ کی بنیاد پر یوگا کرنے سے سینے اور کمر کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں اور ان کی لچک میں اضافہ ہوتا ہے جس سے ان کے پھیلنے اور سکڑنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے. یوگا ورزشوں میں سانس روکنے اور چھوڑنے اور جسمانی حرکات سے نظامِ تنفس مضبوط ہوتا ہے. یوگا کی وجہ سے خون پورے جسم میں اپنا دورہ مکمل کرتا ہے اور آکسیجن پورے جسم میں پہنچ پاتی ہے. اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جسم سے باہر دھکیل دیا جاتا ہے.

تحقیق سے ثابت ہے کہ یوگا کرنے سے سینے کی دیوار مضبوط ہوتی ہے اور اس کے پھیلنے اور سکڑنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے. یوگا کرنے والے بہت سے لوگ جو یوگا کرنے سے پہلے بیمار ہوتے ہیں ان کو یوگا شروع کرنے کے بعد صحت کی طرف واپس لوٹتے دیکھا جا سکتا ہے


ایروبک ورزش

Aerobic Exercise

ایروبک ورزش جیسے بھاگنا، دوڑنا وغیرہ بھی نظامِ تنفس کے لیے نہایت ہی ضروری ہے. ہمارے پھیپھڑوں کو کام کرنے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے اور ورزش کے دوران سانس لینے کی رفتار میں اضافہ سے آکسیجن جسم میں زیادہ مقدار میں داخل ہوتی ہے. جس کے لیے ہمارے پھیپھڑوں اور دل کو زیادہ تیزی سے کام کرنا پڑتا ہے. ایربک ورزش سے ہمارے پھیپھڑے اور دل مضبوط ہوتے ہیں. اور جسم میں آکسیجن کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے. انسان کے سانس لینے کی صلاحیت میں بہتر ہوتی ہے. جس سے پھیپھڑوں کی کارکردگی بھی بہتر ہوتی ہے. اور دل کو بھی زیادہ رفتار سے کام کرنا پڑتا ہے تاک آکسیجن کی کھپت کو  پورا کیا جا سکے. کچھ سادہ ایروبک ورزشیں جیسے تیز چلنا، ہلکا، بھاگنا، سائیکلنگ، ایلپٹیکل ٹریننگ وغیرہ انسانی جسمانی ساخت میں بھی بہتری لاتی ہیں. جس سے جسمانی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے

غلط انداز سے اٹھنے، بیٹھنے کی وجہ سے ہمارے اعضاء کو غیر ضروری دباؤ برداشت کرنا پرتا ہے. جس کی وجہ سے اکثر انسان مختلف بیماریوں کا شکار رہتا ہے


تائی چی

Tai Chi

یہ ایک چائنیز مارشل آرٹ کی ایک قسم ہے. پاکستان میں شاید اس کا کوئی ٹریننگ سینٹر موجود نہیں. لیکن اگر آپ کسی ایسی جگہ رہائش پذیر ہیں جہاں یہ سہولت موجود ہو تو لازمی یہ ورزش کریں. کیونکہ پوری دنیا اس کے فوائد سے آگاہ ہے اور تحقیق سے اس کے فوائد ثابت شدہ ہیں. اس میں شامل منفرد ورزشوں میں جسم کے ساتھ سانس کا بہت ہی زیادہ استعمال کیا جاتا ہے. جس سے پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے. اور یہ بات بھی تحقیق سے ثابت ہے کہ تائی چی کی ورزشیں سی او پی ڈی کے مریضوں کے لیے مفید ثابت ہوئی ہیں. اس میں منہ سے سانس لے کر منہ سے سانس کو باہر نکالا جاتا ہے. اس تکنیک سے نظامِ تنفس کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے


تلاوت قرآن پاک 

Recitation of Quran

قرآن مجید کی باقاعدہ تلاوت انسان کی اُخروی زندگی کے ساتھ ساتھ دنیاوی زندگی کے لیے بھی باعثِ رحمت ہے. قرآن کی تلاوت سے پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر ہونے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول بھی ہوتا ہے. اور جب اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہو تو پھر انسان لیے فلاح ہی ہوتی ہے 


ہنسنا

Laughing

آخر میں سب سے آسان طریقہ بتانے لگا ہوں وہ ہے ہنسنا، قہقہے لگانا. اپنے گھر والوں، رشتے داروں، دوستوں اور ارد گرد کے لوگوں کے ساتھ خوشگوار اور مثبت رویہ کے ساتھ رہیں. ان کے ساتھ باتیں کریں اور ہنستے بولتے رہیں. اس طرح کرنے سے پیٹ کے پٹھے مضبوط ہوں گے اور پھیپھڑے زیادہ کام کریں گے جس سے تازہ ہوا جسم میں داخل ہو گی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ باہر نکل جائے گی. یہ عمل بھی پھیپھڑوں کی صلاحیت میں اضافہ کا باعث بنتا ہے

Note: Chronic obstructive pulmonary disease, or COPD

Comments

Popular posts from this blog

Paralysis Treatment

 

بچوں کے لیے الیکٹرانک آلات کا استعمال صحت کے خطرات

بچوں کے لیے الیکٹرانک آلات کا استعمال صحت کے خطرات ہم بچوں کی ایک نئی نسل کی پرورش کر رہے ہیں جو آلہ سے چلنے والی طرز زندگی کی طرف بے حد مائل ہیں۔ جب کہ کمپیوٹر اور ہاتھ سے پکڑے جانے والے آلات عیش و عشرت سے زیادہ ضرورت بن رہے ہیں، ہمارے بچوں کو ان سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ 7-18 سال کی عمر کے بچوں کے لیے روزانہ دو گھنٹے وہ تجویز ہے جس پر آپ کو قائم رہنا چاہیے۔ ایک جنگ ایک لڑائی ہمارے درمیان ایسے والدین بھی ہو سکتے ہیں جو اس جنگ سے تھکے ہوئے ہوں، جنہوں نے اپنے بچوں کو ان کے ہینڈ فونز، ٹیبلیٹ کمپیوٹرز اور دیگر چیزوں سے دور کرنے کے لیے جدوجہد کی ہو۔ یہ ہمیشہ ہار ماننے کے لیے پرکشش ہوتا ہے، یہ یقین رکھتے ہوئے کہ ہمارے بچوں کو جلد از جلد ٹیک سیوی بننا سیکھنا پڑے گا۔ آرام سے رہیں - دن میں دو گھنٹے تک کافی محفوظ ہے، لیکن صحت کے درج ذیل مسائل سے ہوشیار رہیں جو نشے کے خطرات کے علاوہ اسکرین کے بہت زیادہ وقت اور ٹیکنالوجی کی خراب عادات سے پیدا ہو سکتے ہیں خراب جسمانی ساخت ، کمر میں درد، گردن اور کندھے کا تناؤ یہ ایک فوری طور پر پہچانا جانے والا ایک آلہ ہے۔  جب ڈیوائس کا استعمال زیادہ ہو تو ...

الکحل اور ڈپریشن

Alcohol and depression الکحل دماغ پہ کس طرح اثر انداز ہوتی ہے؟ ٹولرنس (Tolerance ) الکحل کا دماغ پہ اثر کئی اور نشہ آور اشیا مثلاً سکون آور ادویات  کی طرح  ہی ہوتا ہے۔ اگر باقاعدگی سے الکحل پی جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ اس کا اثر کم ہوتا جاتا ہے اور مطلوبہ اثر حاصل کرنے کے لیے اس کی مقدار بڑھانی پڑتی ہے۔ یہ عمل  'ٹولرنس' کہلاتا ہے اور الکحل  کا عادی بننے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ الکحل درج ذیل مسائل کا سبب بھی بن سکتی ہے ڈیمینشیا    ڈمینشیا الزائمر سے ملتی جلتی یادداشت کی کمزوری سائیکوسس   زیادہ مدت تک الکحل پینے والوں کو اکیلے میں آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں   عادی ہو جانا اگر الکحل پینا اچانک بند کر دیا جائے تو  نشہ اچانک چھوڑنے کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں مثلاً کانپنا، اعصابی دباؤ اور کبھی کبھار ایسی چیزیں دیکھنا جو حقیقت میں وہاں موجود نہ ہوں۔ خودکشی   خودکشی کی کوشش کرنے والے مردوں کی چالیس فی صد تعداد ان افراد پر مشتمل ہوتی ہے جو طویل عرصے سے الکحل کے عادی ہوں۔ خودکشی میں کامیاب ہونے والے ستر فی صد افراد وہ ہوتے ہیں جنھوں نے ا...